Special Candlestick Patterns - Reversal and Continuation Signals

63۔ سپیشل کینڈل سٹک پیٹرنز یا نمونہ جات

0 0 Vote
Instructor

63۔ سپیشل کینڈل سٹک پیٹرنز یا نمونہ جات

فاریکس تربیتی پروگرام کی تریسٹھویں نشست

فاریکس تربیتی نشست بحوالہ مالیاتی مارکیٹس میں پھر سے خوش آمدید۔ اس نشست میں سپیشل کینڈل سٹک پیٹرنز کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

سپیشل کینڈل سٹکس

تاجر مندرجہ ذیل صورت حال میں پیدا ہونے والی سپیشل کینڈل سٹکس کو استعمال کر سکتے ہیں۔

Special Candlestick Patterns - Economic News - Andrew\\'s Pitchfork Median, Pivot and Trigger Lines

1۔ ایچ 4 دورانیہ ہائے وقت میں لیولز کے قریب

2۔ ایچ 4 میں، روزانہ اور ہفتہ وار دورانیہ ہائے وقت کے حوالے سے، فائبونیکی لیولزکے قریب

3۔ اقتصادیات کے حوالے سے کلیدی خبروں کے قریب یا نیویارک سیشن کے شروع ہونے کے قریب

4۔ معاونتی و مزاحمتی لائنوں کے قریب

5۔ اینڈریوز پچ فورک کی درمیانی یا وسطی لائن کے قریب

6۔ تیزی سے زوال یا عروج کے وقت

پہلا طریقہ

ہیمر، پیئرسنگ لائن، ڈارک کلاؤڈ، ہینگن مین اور شوٹنگ سٹار وہ خصوصی کینڈل سٹک پیٹرنز ہیں جو کسی رجحان میں واقعہ وہتے ہیں تاکہ مستقبل کی سمت کا تعین کر سکیں۔

بائیں گراف پر، ایک بلش ہینگنگ مین بیئرش ہیگنگ مین سے ذرا قبل اوپر جاتے رججان کے حوالے سے سامنے آتا ہے۔

اس پیٹرن سے تصدیق ہو جاتی ہے کہ اوپر جاتا رجحان آنے والے وقتوں میں بھی اوپر کی سمت سفر جاری رکھے گا۔

دائیں گراف پر، اوپر جاتے رجحان کے حوالے سے ایک بلش ٹرائی اینگل پیٹرن وجود میں آ چکا ہوتا ہے جس میں بریک آؤٹ پوائنٹ پر بیئرش ہینگنگ مین وجود میں آ چکا ہوتا ہے۔

اس کینڈل پیٹرن کے ذریعے ایک طاقت ور اور مناسب خریداری سگنل کی تصدیق ہوتی ہے جو کہ دیے گئے ٹرائی اینگل پیٹرن کے بریک آؤٹ پوائنٹ پر پیدا ہو جاتا ہے۔ پس تاجر اس مقام پر خریداری آرڈر رکھوا سکتا تھا۔

Special Candlestick Patterns - Piercing Line Higher and Lower Shadow - Inverted Hammer on Trend

یہ کینڈل پیٹرنز مسلسل یا کنٹنیول سگنلز پیدا کرتے ہیں اور رجحان کی حالیہ سمت کی تصدیق کرتے ہیں۔ بائیں گراف پر، نیچے جاتے رجحان کے حوالے سے ایک انورٹڈ ہیمر وجود میں آ چکی ہوتی ہے۔

اس نیچے جاتے رجحان کے حوالے سے ایک اور انورٹڈ ہیمر وجود میں آ چکی ہوتی ہے، تاجر ان مقامات پر فروختی آرڈر رکھوا سکتا تھا۔

دائیں گراف پر، ایک انورٹڈ ہیمر نیچے جاتے رجحان کے حوالے سے وجود میں آ چکی ہوتی ہے جس کے بعد ایک مسلسل گراوٹ ہوا کرتی ہے۔ پس انورٹڈ ہیمر نیچے جاتے رجحان کے حوالے سے کنٹنیوشن یا مسلسل سگنلز پیدا کرتی ہے۔

مزید مطالعے کے لیے ایم ٹی 4 کے حوالے سے کئی مثالیں موجود ہیں۔ مثال کے طور پر، اس نیچے جاتے رجحان کے حوالے سے ایک انورٹڈ ہیمر وجود میں آچکی ہوتی ہے جس کے بعد تیزی سے گراوٹ ہوا کرتی ہے۔

ایک اور نیچے جاتے رجحان کے حوالے سے ایک اور انورٹڈ ہیمر فروختی سگنل پیدا کرتی ہے، پس، جب کبھی نیچے جاتے رجحان کے حوالے سے انورٹڈ ہیمر پیدا ہوتا ہے تو اس بات کا کافی امکان ہوتا ہے کہ یہ رجحان نیچے جاتے رجحان کے حوالے سے سفر جاری رکھتا ہے۔

ایک دوسری مثال میں، ایک ہینگنگ مین طاقت ور بلش کینڈل کے بعد وجود میں آ چکا ہوتا ہے۔ پس تاجر ہینگنگ ممین کینڈل سٹک کی زیادہ قیمت سے زائد خریداری آرڈر رکھوا سکتا تھا۔

شوٹنگ سٹار کے بعد، ہینگنگ مین اور ہیمر کینڈل سٹک پیٹرنز آتے ہیں۔ یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ مارکیٹ پرائس اپنا حالیہ رجحان جاری رکھے گی۔ اگر کسی اور پیٹرن یا سٹریٹجی سے کوئی اور تصدیقی عمل وقوع پذیر ہوتا ہے۔ اس مثال میں، ایک فلیگ پیٹرن وجود میں آیا اور آخری چوٹی پر ایک ٹویزرز پیٹرن وجود میں آیا پس تاجر اس کینڈل پیٹرن کے اوپر خریداری آرڈر رکھوا سکتا تھا۔ بریک آؤٹ پوائنٹ پر دو ہینگنگ مین پیٹرنز وجود میں آ چکے ہوتے ہیں۔ پس، تاجر ایک اور خریداری آرڈر رکھوا سکتا تھا، بعدازاں، ایک اور ہینگ مین یا ہیمر اوپر جاتے رجحان کی تصدیق کر چکا ہوتا ہے۔

Special Candlestick Patterns - Bullish and Bearish Trend Line - Shooting Star with Hanging Man

اگر بعض پیٹرنز یا حکمت عملیوں کے حوالے سے تاجر کنٹنیوشن سگنلز کی شناخت کرتا ہے تو کامیاب تجارت کے حوالے سے مذکورہ کینڈل پیٹرن مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

دوسرا طریقہ

تاجر لیولز کے ذریعے خریداری اور فروختی مقامات کی شناخت کر سکتا ہے مثلاً بائیں گراف پر، ایک لیول ڈرا کیا جا سکتا ہے جس کے مارکیٹ کے رجحان پر قابل ذکر اثرات مرتب ہوئے تھے۔ ایک فائبونیکی پیٹرن بھی داخل کیا جا سکتا ہے کہ پھر یوں ہوتا ہے کہ پرائس مارکیٹ نے اپنے لیول 61.8٪ پر اپنی سمت پلٹا دی۔ اس مقام پر ایک بلش ہیمر وجود میں آ چکا ہوتا ہے، پس اس پیٹرن سے 3 خریداری سگنلز کشید کیے جا سکتے ہیں۔

دائیں گراف پر، مارکیٹ پرائس لیول 76.4٪ کو چھونے کے بعد نیچے جاتے جاتے سمت کی طرف پلٹ آتی ہے۔ اس بریک آؤٹ پوائنٹ پر ڈارک کلاؤڈ وجود میں آ چکا ہوتا ہے۔ پس، تاجر سب سے نچلی طرف سے موجود کینڈل کی کم قیمت کوپار کرنے کے بعد فروختی آرڈر رکھوا سکتا تھا۔ ریورسل بلش کینڈلز جیسا کہ ہیمر اینگلفنگ اوور پیئرس لائن نیچے جاتے رجحان کی ذیلی میں وجود میں آتے ہیں۔ مزید یہ کہ تاجر فائبونیکی پیٹرن سے استفادہ کر سکتا ہے تاکہ ان خصوصی کینڈل سٹکس کو شناخت کر سکے۔

Special Candlestick Patterns - Dark Cloud over Fibonacci Levels - Support and Resistance Levels

ریورسل بیئرش کینڈلز جیسا کہ شوٹنگ سٹار اینگلفنگ اور ڈارک کلاؤڈ اوپر جاتے رجحانات کے حوالے سے وجود میں آتے ہیں۔ مزید یہ کہ تاجر فائبونیکی پیٹرن کو استعمال کرتے ہیں تاکہ ان خصوصی کینڈل سٹکس کو شناخت کر سکیں۔

مثال کے طور پر، تاجر اس اوپر جاتے رجحان کے ساتھ ساتھ موونگ ایوریج پیٹرن کے حوالے سے لیول ڈرا کر سکتے ہیں۔ جب قیمت سب سے اوپری طرف سے لیول کو پار کر لیتی ہے، تو ایک بلش ہیمر پیٹرن اس سپاٹ یا مقام پر وجود میں آ جاتی ہے جہاں موونگ ایوریج موجود لیول کو پار کر لیتی ہے۔ پس تاجر خریداری سگنلز کے بعد موجود ہیمر کینڈل پیٹرن کے اوپر خریداری آرڈر رکھوا سکتا تھا۔ لیولز کے مارکیٹ کے رجحانات کے حوالے سے قابل ذکر اثرات ہوتے ہیں۔ مثلاً، ایچ 4 جی بی پی یو ایس ڈی چارٹ پر، پرائس فائبونیکی پیٹرن کے 61.8٪ لیول کو چھونے کے بعد نیچے کی طرف گراوٹ کا شکار ہوتی ہے۔ جب قیمت لیول 61.8٪ کو چھو جائے تو ایک بیئرش ہیمر وجود میں آ چکی ہوتی ہے۔ پس، تاجر فروختی آرڈر رکھوا سکتا تھا۔ لیولز ایم، ایچ/2 اور ایچ پر ٹی پی قیمتوں کا تعین کیا جا سکتا تھا۔ مارکیٹ پرائس پہلی ٹی پی پرائس پر پہنچ چکی ہوتی ہے اور یہ فرض کیا جاتا ہے کہ قیمت کم از کم ایچ/2 تک کم ہو جائے گی۔ ایک اور مثال دیکھی جائے تو، تاجر ایک لیول کھینچتا ہے کہ جس کے مارکیٹ پرائس پر قابل قدر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جب قیمت اس لیول کی طرف اپنی سمت کو پلٹا لے تو ایک طاقت ور اور قابل اعتماد بلش ہیمر وجود میں آ چکا ہوتا ہے۔ پس، جب انٹری پرائس اس کینڈل سے اوپر ہو جائے تو تاجر خریداری آرڈر رکھوا سکتا تھا۔ ٹی پی پرائس انٹری پرائس سے 68 پپس زائد ہو سکتی ہے۔ اس ریجن میں فلیگ پیٹرن بھی وجود میں آتا ہے۔ پس، تاجر اس پیٹرن کے ذڑیعے ٹی پی پرائس کو مدنظر رکھ سکتا تھا۔

Special Candlestick Patterns - Buy and Sell Trading Signals - Uptrend and DownTrend

تیسرا طریقہ

جب ایک شوٹنگ سٹار، اینگلفنگ، ڈارک کلاؤڈ اور دیگر سپیشل کینڈلز آخری چوٹی یا دہرے یا تہرے ٹاپ/باٹم پیٹرنز کی ویلی پر وجود میں آتی ہیں تو تاجر مزید قابل اعتماد سگنلز کی بنیاد پر آرڈر رکھوا سکتا ہے۔بائیں گراف پر، اوپر جاتے رجحان کے حوالے سے ڈبل ٹاپ وجود میں آ گیا۔ دوسری چوٹی پر ایک ڈارک کلاؤڈ وجود میں آ چکا ہے، پس تاجر موجود کینڈل سے کم قیمت پر فروختی آرڈر رکھوا سکتا تھا۔ دائیں گراف پر، ایک ٹرپل ٹاپ وجود میں آ گیا ہے جس میں اس کی چوٹی پر موجود طاقت ور بیئرش کینڈل ایک قابل اعتماد فروختی سگنل پیدا کر چکی ہوتی ہے۔

بائیں گراف پر، ٹرپل باٹم پیٹرن کی آخری ویلی پر ایک بلش ہیمر وجود میں آ چکا ہوتا ہے۔ موجود کینڈل پر ایک خریداری آرڈر رکھوایا جا سکتا تھا، تاہم ایسا بریک آؤٹ پوائنٹ سے پہلے ہونا ضروری ہے۔

دائیں گراف پر، ٹرپل باٹم کی آخری ویلی پر موجود پیئرسنگ لائن کینڈل خریداری سگنل پیدا کر چکی ہوتی ہے۔ ٹرپل اور ڈبل ٹاپ/باٹم وہ عام پیٹرنز ہیں جن کو دیگر پیٹرنز یا حکمت عملیوں سے ملایا جا سکتا ہے۔جی بی پی یو ایس ڈی چارٹ پر، تاجر ڈبل ٹاپ پیٹرن کو شناخت کر سکتا ہے جس میں ایک بیئرش ہیمر/ ڈارک کلاؤڈ پیٹرن آخری چوٹیی پر وجود میں آ چکا ہوتا ہے۔ پس، تاجر موجود کینڈل کے نیچے فروختی آرڈر رکھوا سکتا ہے۔ ٹی پی پرائس کو 1.6655پر، انٹری پرائس سے 176 پپس کم تصور کیا جا سکتا ہے۔ کئی ایسے ڈبل یا ٹرپل ٹاپ/باٹم پیٹرنز ہوتے ہیں، کہ جن کو تاجر چارٹس پر شناخت کر سکتا ہے۔

Special Candlestick Patterns - Pips and Pippet over or Lower than High or Low Prices

چوتھا طریقہ

تاجر مدار پوائنٹس کا تعین کرنے کے لیے ٹویزر کینڈلز کو استعمال میں لا سکتا ہے۔ بائیں گراف پر، دو بلش ہیمر کینڈلز نیچے جاتے رجحان کے حوالے سے ٹویزر پیٹرن وجود میں لا چکی ہوتی ہیں۔ پس جب مارکیٹ پرائس ٹویزر کی زائد قیمت سے آگے بڑھ جائے تو تاجر خریداری آرڈر رکھوا سکتا ہے۔ دائیں گراف پر، ایک اور ٹویزر وجود میں آ چکا ہوتا ہے جس میں بیئرش کینڈل کے فوری بعد ایک بلش کینڈل وجود میں آتی ہے۔ دو بلش کینڈلز کے حامل ٹویزرز پیٹرن میں اس ٹویزرز کے مقابلے میں زیادہ طاقت ہوتی ہے کہ جس میں ایک بلش اورایک بیئرش کینڈل شامل ہوتی ہے۔

بایاں گراف ظاہر کرتا ہے کہ ایک اوپر جاتے رجحان کے اندرون میں ایک بیئرش ٹویزرز پیٹرن وجود میں آ جاتا ہے۔ اس ٹویزرز پیٹرن میں دو شوٹنگ سٹار کینڈلز شامل ہوتی ہیں۔ بیئرش پیٹرن میں دو بیئرش کینڈلز شامل ہوتی ہیں، سو اس میں زیادہ طاقت ہوتی ہے۔

"Special

ایم ٹی 4 پلیٹ فارم کے حوالے سے کئی مثالیں موجود ہیں۔ مثال کے طور پر، نیچے جاتے رجحان کے آخر میں بلش ٹویزر مع دو بلش ہیمرز وجود میں آ چکی ہوتی ہیں۔ پس، تاجر آخری بلش ہیمر کی زائد قیمت سے اوپر خریداری آرڈر رکھوا سکتا تھا۔ ٹویزرز پیٹرن سے ذرا نیچے ایک طاقت ور لیول ہوتا ہے کہ جس کو پرائس کئی بار کراس نہ کر سکی تھی۔

ایک اور کینڈل پیٹرن، ایک بلش ہیمر/ہینگنگ مین پیٹرن نے خریداری سگنل کو پیدا کیا۔ مارکیٹ پرائس کے آخری رجحان کے حوالے سے ہیمر کینڈل کے بعد ایک انورٹڈ ہیمر وجود میں آ گئی۔ پس، یہ انورٹڈ ہیمر تصدیق کر رہی ہوتی ہے کہ فروختی آرڈر موجود کینڈل کی کم قیمت سے بھی کم قیمت ہو جانے کے بعد رکھوایا جا سکتا تھا۔پہلی ٹی پی پرائس انٹری پرائس سے 126 پپس کم ہو سکتی تھی۔ دوسری ٹی پی پرائس کو ہیمر کینڈل اور انٹری پرائس کے مابین فاصلے کے پیش نظر دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ تصور کیا جاتا ہے کہ 126 اور 220 پپس تک قیمت گراوٹ کا شکار ہو گی، اور یہ 1.6588تک ہو گی۔

نیچے جاتے رجحان کی سمت کے بعد، مارکیٹ اوپر جاتے رجحان کی طرف سفر شروع کر چکی ہوتی ہے۔ اس اوپر جاتے رجحان کے حوالے سے ہینگنگ مین کینڈل وجود میں آتی ہے جو رجحان کی سمت کی تصدیق کرتی ہے۔ پھر سے، گراوٹ کے بعد جب قیمت اوپر کو جاتی ہے، تو ایک اوپر جاتے رجحان کی تصدیق کرتی ہوئی ایک ہینگنگ مین کینڈل وجود میں آ چکی ہوتی ہے۔

یہ کینڈلز طاقت ور اور قابل اعتماد سگنلز پیدا کرتی ہیں کہ جن کا تاجر آرڈر رکھواتے وقت تعین کر سکتا ہے۔ مثلاً، جب نیچے جاتا رجحان اپنی نقل و حرکت شروع کر لے تو ایک ایک انورٹڈ ہیمر مسلسل نیچے جاتے رجحان کی تصدیق کر رہی ہوتی ہے۔ ٹی پی قیمتیں انٹری پرائس کی بہ نسبت 320 یا 480 پپس کم ہو سکتی تھیں۔ ایک مختصر سے ٹرانسینٹ اوپر جاتے رجحان کے فوری بعد، ایک شوٹنگ سٹار کینڈل پیدا ہو چکی ہوتی ہے اور انٹری پرائس کی نسبت 395 پپس کم ٹی پی پرائس کے ساتھ فروختی سگنل پیدا کیا جا سکتا ہے۔ کینڈلز طاقت ور تصدیقات ہوتی ہیں کہ جن کو تاجر کامیاب تجارتوں کے لیے استعمال میں لا سکتا ہے۔

Special Candlestick Patterns - Hanging Man and Bollinger Bands - Upper and Lower Bands

ایک اور مثال میں، ایک بیئرش ہیمر کہ جس کے بعد ایک بلش ہیمر آتی ہے اوپر جاتے رجحان کی تصدیق کر رہی ہوتی ہے۔ اوپر جاتے رجحان کے حوالے ایک ہیمر خریداری سگنل پیدا کر رہی ہوتی ہے۔ مذکورہ سپیشل کینڈلز تاجروں کی اعانت کرتی ہیں تاکہ وہ تجارت سے منافع کشید کریں۔ اس ٹرائی اینگل پیٹرن میں، کینڈلز نے اوپر جاتے رجحان کی تصدیق کی۔

اگر اے یو ڈی یو ایس ڈی سمبل کے ماہانہ چارٹ کی بات کی جائے تو تاجر بلش ہیمر کو شناخت کر سکتا ہے جس کے بعد ایک بیئرش ہیمر پیدا ہوتا ہے جو کہ ٹویزرز ٹاپ پیٹرن تخلیق کرتا ہے جو فروختی سگنل پیدا کر رہا ہوتا ہے۔پس اگر پرائس کم قیمت سے کم ہو جاتی ہے، تو تاجر انٹری پرائس سے 210 اور 270 پپس، تقریباً 0.8891، کم ٹی پی پرائسز کے ساتھ فروختی آرڈر رکھوا سکتا ہے۔ باہم جڑی ہوئی ہیمر کینڈلز رجحان کی سمت کو قابل ذکر انداز میں متاثر کرتی ہیں۔

Special Candlestick Patterns - Price Action Trading Strategy and Methods - Triangle Pattern

پرائس ایکشن سٹریٹجی میں، گولڈ چارٹس میں، رجحان اس 1260 کے حوالے سے ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ بعض ہیمر کینڈلز کے اکٹھ سے شارپ اور گریڈینٹ موومنٹ کے سگنل پیدا کیے۔ یہاں باہم جڑی ہوئی ہیمر کینڈلز کے بعد 30$ ویلیو کے ساتھ شارپ کینڈل وجود میں آئی ہے۔ تاجر ایک اور مثال کی شناخت بھی کر سکتا ہے، جیسا کہ یہاں ہے، کہ جس نے ہیمر کینڈلز کو ملا دیا جس کے بعد طویل اور برق رفتار رجحان سامنے آیا۔

تاجر کو کئی مرتبہ یہ مشق کرنی چاہیے تاکہ وہ سپیشل کینڈلز کی شناخت کی اہلیت کو پختہ کر سکیں، جس کا رجحان کی نقل و حرکت پر قابل ذکر اثر ہوا کرتا ہے۔

اس کے ساتھ ہی یہ نشست اختتام کو پہنچی۔ اگلی نشست کے ساتھ پھر حاضر ہوں گے، اپنا خیال رکھیے گا۔

Comments

Copyright © 2011-2020 PFOREX.COM | Professional Forex School | Cashback and Rebates