Regulatory Institutions and Reliable Brokerages - Trading Account

7۔ انضباطی ادارے اور قابل اعتبار بروکریجز

8 1 Vote
Instructor

7۔ انضباطی ادارے اور قابل اعتبار بروکریجز

فاریکس تربیتی پروگرام کی ساتویں نشست

مالیاتی مارکیٹوں سے متعلقہ فاریکس کے پیشہ وارانہ تربیتی پروگرام میں پھر سے خوش آمدید

اس نشست میں ہم قواعد و ضوابط وضع کرنے والے اداروں اور قابل بھروسا بروکریجز، بروکر کے اکاؤنٹ سے متعلقہ ضوابط کے علاوہ ٹرانزیکشن ویلیو کی بنیاد پر بنائے گئے اکاؤنٹس کی اقسام کا تذکرہ کریں گے۔

انضباطی ادارے

بروکر کے چناؤ کے وقت ان کی ساکھ کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ انضباطی ادارے جو کہ بروکروز کو لائسنس فراہم کرتے ہیں، وہ ریگولیٹرز کہلاتے ہیں۔ سٹاک مارکیٹ سے جو حصہ منسلک ہوتا ہے ان کو سٹاک اور بونڈ کی شراکت کرنے والی تنظمیں کنٹرول کرتی ہیں۔ تمام سرکاری اور نجی بروکر اپنا کام لائسنس کے ذریعے شروع کرتے ہیں جو کہ یہ انضباطی ادارے کے ذریعے ملتا ہے۔

این ایف اے، ایف سی اے، سی وائی ایس ای سی (NFA, FCA, CYSEC)

یاد رہے پوری دنیا میں ایسے انضباطی ادارے موجود ہوتے ہیں جو کمپنیوں کو لائسنسوں کی پیشکش کرتے ہیں جو کہ مالیاتی مارکیٹوں کے اندر رہ کر کام کرتی ہیں۔ ان کمپنیوں میں بعض یہ ہیں۔

Regulatory Institutions and Reliable Brokerages - Regulations, Terms and Policy of Brokers in Stock or Forex Market

این ایف اے یا NFA (نیشنل فیوچرز ایسوسی ایشن)، جو کہ امریکا سے متعلقہ ادارہ ہے۔

ایف سی اے یا FCA (فنانشنل کنڈکٹ اتھارٹی)، جو کہ برطانیہ اور یورپی یونین سے متعلقہ ادارہ ہے۔

Regulatory Institutions and Reliable Brokerages - NFA National Futures Association Regulatory USA

سی وائی ایس ای سی یا CySEC (سپرس سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن)، جو کہ قبرص اور یوریی یونین سے متعلقہ ادارہ ہے۔

Regulatory Institutions and Reliable Brokerages - FCA Financial Conduct Authority Regulatory UK

ہر ملک کا اپنا انضباطی ادارہ موجود ہوتا ہے اور ان کے ذمے بروکرز کو لائسنس فراہم کرنا اور ان کی سرگرمیوں کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔

انضباط برائے بروکریج

یہ انضباطی ادارے ٹرانزیکشن، تجارت اور سرمایہ کاروں اور بروکرز کے مابین ہونے والی سرگرمیوں کے حوالے سے کسی واضح بے ضابطگی کی باریک بینی سے تفتیش کرتا ہے۔ چند ایسے بروکرز جن کو لائسنس دیا گیا ہے ان میں HOTFOREX, IRONFX, FXPRO اور ICM شامل ہیں۔

Regulatory Institutions and Reliable Brokerages - Cyprus Securities and Exchange Commission

دنیا بھر سے 480 سے زائد ویب سائٹس مالیاتی مارکیٹوں کے امور میں مصروف ہیں۔ ہر ماہ چند بروکرز کو اس فہرست میں شامل کیا جاتا ہے اور بعضوں کو ہٹا دیا جاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ فریقین کو بروکرز کے چناؤ میں محتاط اور ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

آپ کو بروکرز کے لائسنس کی بابت معلومات بروکرز کی ویب سائیٹ سے مل جائیں گی، تاہم آپ اس کے درست ہونے سے متعلق پھر بھی پڑتال کر لیں۔ ایسے اداروں کی اکثر ویب سائٹس اپنے لائسنس کے حوالے سے تفصیلات کی نمائش نمایاں انداز میں کرتی ہیں۔

Regulatory Institutions and Reliable Brokerages - Regulation on FXPro Website - FCA

بعض بروکرز، جیسا کہ IRONFX، کے ضوابط کسی قدر مختلف ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے متعلق صارفین کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ مزید یہ کہ، آپ دیکھ سکتے ہیں، ان کے دفاتر دنیا بھر میں قائم ہیں۔ ان کے ویب سائٹ کے صفحہ کے بالکل نیچے جا کر آپ ان کے ملکیتی لائسنسوں اور ان کی اقسام کے بارے میں جان سکتے ہیں۔

بروکر کا انتخاب کیسے کریں

اپنے لیے بہتر بروکر کا انتخاب کرنے کے لیے، آپ کو بہت سے امور کو مدنظر رکھنا ہو گا۔

بروکر ضوابط کا پابند ہو اور اس کے پاس انضباطی ادارے یا اداروں سے جاری کردہ مستند لائسنس موجود ہو۔

بروکر پچھلے 5 سال سے فعال ہو، یعنی وہ مارکیٹ میں پچھلے 5 سال سے متحرک انداز میں کام جاری رکھے ہوئے ہو۔

بروکر اس حد تک قابل بھروسا ہو کہ تجارت کی غرض سے آپ اس کے پاس سرمایہ رکھوا سکیں۔

بروکر کے پاس صارفین کی سہولت کے لیے سپورٹ سروس موجود ہو، اور براہ راست فون سروس بھی میسر ہو تاکہ آپ ان سے بآسانی رابطہ قائم کر سکیں۔

Regulatory Institutions and Reliable Brokerages - Broker Advantages and Specifications - Customer Support Quality

ان کے پاس سرمایہ جمع کرنے اور نکلوانے کے لیے مختلف طریقہ ہائے ادائیگی موجود ہوں، خاص طور پر ایسے طریقہ ہائے ادائیگی جو صارفین پر ادائیگی یا وصولی کے وقت کم بوجھ ڈالتے ہوں۔

ان کے پاس رقم نکلوانے کا معاہدہ سادہ اور آسان ہو اور رقم نکلوانے کی کوئی حد مقرر نہ ہو۔ آپ کو اثبات کرنا ہو گا کہ آپ اپنے متعلقہ بروکر کے ساتھ اپنے اکاؤنٹ سے رقم نکلوانے کے حوالے سے طے شدہ شرائط و ضوابط سے آگاہ ہیں۔

ایک اچھے بروکر کے پاس ایک ایسا پلیٹ فارم ہونا چاہیے جس کی رفتار قابل قبول حد تک ہو اور غیر متوازن مارکیٹوں میں بھی اس کی قیمتوں میں تغیر کی صورت پیش نہ آئے۔ بعض بروکر اپنے کلائنٹس کو کسی مخصوص وقت میں آرڈر رکھوانے کی اجازت نہیں دیتے خاص طور پر جب مارکیٹ میں تیزی سے اتھل پتھل ہو رہی ہو۔

بروکر کو اپنے کاروبار کے حوالے سے دیانت دار اور شفاف ہونا چاہیے، جس کا مطلب یہ ہے کہ منافع کی ترسیل اور دیگر سرگرمیوں کے حوالے سے بروکر کے خلاف شکایات نہ آئی ہوں اور وہ ضابطوں کی خلاف ورزی کا مرتکب نہ ہوا ہو، اور ان کے پاس ایسے کلائنٹس موجود ہوں جو ان کی خدمات سے خوش ہوں۔

اگر آپ کا بروکر ان شرائط پر پورا اترتا ہے، تو آپ پورے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ آپ نے بروکر کا انتخاب بہتر طور پر کیا ہے۔

اکاؤنٹ کا انتخاب کرتے ہوئے

اب موزوں اکاؤنٹ کے انتخاب کا مرحلہ آتا ہے۔ اکاؤنٹ منتخب کرنے کے لیے کئی امور کو مدنظر رکھنا ہوتا ہے۔ آپ کے علم میں ہونا ضروری ہے کہ تجارتی اکاؤنٹس کھلوانے کے لیے آپ کو کم از کم کتنی رقم جمع کروانا ہوتی ہے، اس کے ساتھ ساتھ آپ کو اپنے تجارتی طریقے سے متعلقہ مخصوص تجارتی اکاؤنٹ میں کھیپ کے حجم کی مقدار بھی معلوم ہونی چاہیے۔

Regulatory Institutions and Reliable Brokerages - Risk Disclaimer and Re-quoting Policy of Brokers

بروکر کی طرف سے زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم لیوریج کس قدر ہے؟

بروکر کی طرف سے فراہم کردہ علامات کیا ہیں؟

بروکر کی طرف سے پیش کردہ تجارتی اکاؤنٹ کتنے ہیں ان کی اقسام کیا ہیں، جیسا کہ فکسڈ اکاؤنٹس، فلوٹنگ

اکاؤنٹس، ای سی این اکاؤنٹس، ایس ٹی پی اکاؤنٹس اور این ڈی ڈی اکاؤنٹس۔ ہم آنے والے کورسز میں ان اکاؤنٹس کا تفصیل سے جائزہ لیں گے۔

Regulatory Institutions and Reliable Brokerages - Specification of Trading Account Minimum Deposit

کیا یہ اکاؤنٹس مع سویپ ہیں یا سویپ کے بغیر ہیں؟

کیا منتخب کردہ تجارتی اکاؤنٹ ان تجارتی حکمت عملیوں سے ہم آہنگ ہے جو ایک تاجر استعمال کرتا ہے؟

تجارتی اکاؤنٹ کس نوعیت کا ہے؟ طویل المدت، وسط المدت یا قلیل المدت؟

اکثر بروکرز طویل المدت اور وسط المدت تجارتی خدمات پیش کرتے ہیں؛ تاہم اکاؤنٹ کھولنے سے پہلے جان لیں کہ کیا بروکر قلیل المدت تجارتی سرگرمیوں کے لیے خدمات مہیا کرتا ہے، جسے سکیلپنگ بھی کہتے ہیں۔

اکاؤنٹ کو ہیجنگ یا حد بندی تجارت کی سہولت فراہم کرنی چاہیے۔ بعض تجارتی سرگرمیوں میں حد بندی یا ہیجنگ کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ مارجن کو پابند کر دیتی ہے۔ بعض بروکرز، جب کہ آپ بیک وقت خرید و فروخت کر رہے ہوتے ہیں، مارجن کو غیر پابند کر دیتے ہیں، جو کہ آپ کے لیے دیگر تجارتی سرگرمیوں میں شرکت آسان بنا دیتی ہے۔ تاہم بعض بروکر آپ کی طرف آنے والی رقم پر حد لگا دیتے ہیں۔

ایک اکاؤنٹ مطلوبہ حجم برائے کھیپ کی بنیاد پر بھی منتخب کیا جا سکتا ہے۔

پہلی قسم نینو یا سینٹ اکاؤنٹ ہے جس میں کھیپ کا کم از کم حجم ایک تقسیم 1000 یا 0.001 ہوتا ہے۔

Regulatory Institutions and Reliable Brokerages - Hedging Limitations - Account Specifications and Spread amount

جیسا کہ ہم پہلے وضاحت کر چکے، جب ہم امریکی ڈالر کو بنیاد بنا کر تجارت کرتے ہیں، زیادہ منافع حاصل نہیں ہوتا اور یہ آپ کو مزید اوپن آرڈرز کی طرف دھکیل دے گا۔ یہ اکاؤنٹس ان افراد کے لیے مناسب ہوتے ہیں جو کہ بیک وقت کئی اوپن ٹریڈز میں شامل ہونا چاہتے ہیں، عام طور پر 100 ٹریڈز سے زیادہ۔ ناجر عام طور پر ان اکاؤنٹس میں 10 سے لے کر 200 ڈالرز تک جمع کرواتے ہیں۔

اسی طرح، یہ اکاؤنٹس ان تاجروں کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں جو کہ مخصوص حکمت عملیوں یا ماہرین کی پڑتال کرنا چاہتے ہیں۔

دوسری قسم کے اکاؤنٹس مائیکرو یا منی اکاؤنٹس ہوتے ہیں۔ کم از کم حجم برائے کھیپ میں جس میں سودابازی ہو سکتی ہے وہ 0.01 ہے۔ یہ اکاؤنٹس عام طور پر نوآموزوں کے لیے بہتر ہوتے ہیں، اور ان پارٹیوں کے لیے جو بڑا خطرہ مول لے کر بڑی مقدار میں پی آئی پی کے ساتھ تجارت کرنا چاہتے ہیں۔ یہ پارٹیاں عام طور پر اپنے اکاؤنٹس میں 50 سے لے کر 200 ڈالرز تک سرمایہ متنقل کرتی ہیں۔

تیسری قسم کا اکاؤنٹ معیاری اکاؤنٹ کہلاتا ہے۔ کھیپ کا حجم 0.1 سے شروع ہو جاتا ہے اور کثیر سرمایہ رکھنے والے پیشہ ور تاجر اور سرمایہ کار ایسے اکاؤنٹس کھولنے کی طرف رجحان رکھتے ہیں۔ ان اکاؤنٹس میں کم از کم سرمایہ کاری کی حد 1000 ڈالرز ہوتی ہے۔

اس کے ساتھ ہی یہ نشست اختتام کو پہنچی۔ اگلی نشست میں پھر ملیں گے۔ اپنا خیال رکھیے گا۔

Comments

Copyright © 2011-2020 PFOREX.COM | Professional Forex School | Cashback and Rebates