Complementary Definitions in Financial Market - Hedge Definition

5۔ اعزازی تعاریف بحوالہ مالیاتی مارکیٹ

0 0 Vote
Instructor

5۔ اعزازی تعاریف بحوالہ مالیاتی مارکیٹ

فاریکس تربیتی پروگرام کی پانچویں نشست

مالیاتی مارکیٹوں سے متعلقہ فاریکس کے پیشہ وارانہ تربیتی پروگرام میں پھر سے خوش آمدید

اس نشست میں ہم مالیاتی مارکیٹ میں رائج مختلف تعریفات پر غور کریں گے:ادل بدل، کمیشن، حدبندی، کاروباری حمل و نقل اور تجارت پر ادل بدل کے اثرات۔ جیسا کہ ہم نے پچھلی نشست میں تذکرہ کیا، بہت سے مختلف طریقے رائج ہیں جن کے ذریعے ایک بروکر کسی فریق سے منافع کلیم کر سکتا ہے۔ ان میں سے ایک پھیلاؤ ہے اور دوسرا طریقہ کمیشن کہلاتا ہے، جس سے مراد وہ فیس ہوتی ہے جو ایک ایجنٹ یا اس ایجنٹ کی کمپنی اس لیے وصول کرتی ہے تاکہ خریدار اور فروخت کنندہ کے مابین معاہدے کے عمل میں سہولت باہم پہنچائے۔ عام طور پر یہ مستقبلیاتی اکاؤنٹس میں ہوتا ہے اور یہ ایک بار کی جانے والی ادائیگی ہے۔

کمیشن

کمیشن سے مراد قریب قریب وہی ہے جو کہ آپ ایک رئیل اسٹیٹ ایجنٹ کو کسی گھر کی خرید و فروخت میں معاونت کے بدل میں دیتے ہیں۔ اگر ہم اس پلیٹ فارم کے حوالے سے دیکھیں، تو اگر آپ تیل کی تجارت پر توجہ مرکوز کریں گے، تو آپ دیکھیں گے کہ کمیشن ادا کیا گیا اور یہ صرف مستقبل میں ہونے والی تجارت کے حوالے سے ہی ادا کیا گیا؛ بیرونی زرمبادلہ کی تجارت کے حوالے سے کمیشن کا کوئی تذکرہ نہیں ہوا کرتا۔ دو قسم کے اکاؤنٹ ایسے ہیں جن کا ذکر ہم نے پہلے نہیں کیا تھا: - این ڈی ڈی NDD (نو ڈیلنگ ڈیسک)اور ای سی این ECN (الیکٹرونک کمیونیکیشن نیٹ ورک)۔ ان اکاؤنٹس میں زر مبادلہ کی تجارت میں بروکر کے لیے کمیشن ہوتا ہے، اتنا جس قدر مستقبلیاتی تجارت میں ہوتا ہے۔ ہم آنے والے وقت میں اکاؤنٹ کی ان اقسام کو زیر بحث لائیں گے۔

ادل بدل یا سویپ

ہم نے اس سے پہلے بھی سویپ یا ادل بدل کے حوالے سے مختصر انداز میں بات کی تھی اور پچھلی نشست میں اس حوالے سے آپ کو معلومات بہم پہنچائی تھیں، تاہم، چونکہ یہ ایک اہم اور نمایاں موضوع ہے، ہم اس حوالے سے مزید تذکرہ کرنا چاہیں گے۔ سویپ یا منافع کی متعین شرح وہ فیس ہے جو ایک پارٹی طویل المدت تجارت کے حوالے سے ادا کرتی ہے۔ سویپ کے نرخ ہر روز نصف شب کو بروکر کے سرور وقت کے حساب سے شمار کیے جاتے ہیں۔ وہ تجارتی سودے جو 00:00 سے پہلے کھولے جاتے ہیں اور اس وقت کے بعد کھلے رہتے ہیں، ان پر سویپ نرخ لاگو ہوتے ہیں۔ اب ہم دیکھیں گے کہ سویپ کو کس طرح شمار کیا جاتا ہے۔

Complementary Definitions in Financial Market - Commission and Fee - Order Specification Table

مثلاً، AUDUSD میں، اس لمحہ AUD اسٹریلوی ڈالر کی شرح منافع امریکی شرح منافع میں سے 2.5 فیصد منہا شدہ کے برابر ہے، اور امریکی ڈالر کی شرح منافع اس وقت 0.25 فیصد ہے۔ اس کلیے کو سامنے رکھا جائے تو آسٹریلوی ڈالر اور امریکی ڈالر کے شروح منافع میں فرق 2.25 فیصد ہے، جو کہ 2.5 میں سے 0.25 کو منہا کر کے حاصل ہوتا ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے، ہر ایک ڈالر کے لیے ایک کھیپ 100,000 کے برابر ہے اور اگر ہم اسے 2.25% سے ضرب دیتے ہیں، تو ہمیں 2250 ڈالروں کی سالانہ سویپ میسر آئے گی اور اگر ہم اس عدد کو 360 پر تقسیم کریں گے تو یہ روزانہ کی رقوم کو ظاہر کرے گا، یہ سویپ شرح منافع کے تقریباََ 6.25 ڈالرز کے برابر ہو گی جو کہ جو کہ آپ کے اکاؤنٹ میں آئے گی یا جائے گی۔ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ اپنی پوزیشن سے خریداری میں مصروف ہیں یا فروخت میں لگے ہوئے ہیں۔ جب کبھی آپ زائد شرح منافع کے ساتھ زرمبادلہ خریدیں گے، سویپ مثبت ہوا کرے گا اور جب آپ زرمبادلہ کو کم شرح منافع پر خریدیں گے یا AUDUSD میں فروخت کریں گے، سویپ منفی ہو گا۔ اس کی مزید بہتر تفہیم کے لیے، ہم آپ کو AUDUSD کے حوالے سے ایک مثال پیش کریں گے۔ چونکہ آسٹریلوی ڈالر کی شرح منافع زیادہ ہے اس لیے آپ کو اکاؤنٹ میں اوپن خریداری پوزیشن کی بدولت مثبت سویپ کے باعث رقم شامل ہو گی اور اوپن فروختی پوزیشن کی بدولت منفی سویپ کی صورت پیدا ہو گی۔ یہ سمجھنے کے لیے کہ مثبت سویپس کس طرح شمار ہوتی ہیں، ذیل میں دی گئی مثال کو دیکھیں۔

Complementary Definitions in Financial Market - MetaTrader Trades Information and Balance of Trading Account

شرح منافع میں فرق، جیسا کہ AUDUSD کیس میں، ہم نے پہلے شمار کیا تھا، بنتا ہے 6.25 منفی X، جو کہ کٹوتی بحوالہ بروکر ہے، برابر ہوا Y کے۔ پس، Y = 6.25 X۔ یوں Y وہ نمبر ہے جو 6.25 سے کم ہے اور جو آپ کی AUDUSD اوپن پوزیشن کے پیش نظر آپ کے اکاؤنٹ میں ہر شب شامل ہو گا۔

منفی سویپ کے حوالے سے جو حساب ہے، جو کہ کسی بھی اوپن پوزیشن کے حوالے سے ہر شب آپ کے اکاؤنٹ سے باہر جائے گا، اس طرح ہو گا:

اس کیس میں شرح جات منافع میں فرق 6.25 ڈالرز منفی بروکر کٹوتی ہے جس کا مطلب ہے 6.25 ڈالرز منفی X جو کہ برابر ہے Z کے اور چونکہ یہاں شرح منافع منفی ہے اس لیے Z بھی منفی ہو گا۔ اب اگر پلیٹ فارم پر نگاہ کریں، مثال کے طور پر ہم نے AUDUSD کی ایک کھیپ خریدی اور فروخت کیا ہے۔ اگر آپ باریک بینی سے جائزہ لیں، تو مثبت سویپ 27.40 ہے اور منفی سویپ 35.93- ہے۔

Complementary Definitions in Financial Market - Calculate Swap - Positive and Negative Swap

اس کا مطلب ہے کہ مثبت سویپ منفی سویپ سے ہمیشہ کم ہوتا ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ مثبت سویپ میں بروکر کی کٹوتی کو منہا کیا جاتا ہے اور منفی سویپ میں اس کا اضافہ کیا جاتا ہے کیوں کہ دونوں منفی ہوتی ہیں۔ یہ جان لینا بھی اہم ہے کہ ہر بدھ کو اکاؤنٹس کے حوالے سے سویپ 3 گنا تک چارج کیا جاتا ہے اور کی وجہ ہفتے کے آخری ایام ہیں (مارکیٹیں ہر ہفتے اور اتوار کو بند رہتی ہیں)۔ اس لیے، ہر بدھ کو، ایک اوپن پوزیشن مثبت یا منفی سویپ کی قدر کے تین گنا تک شمار ہوتی ہے۔

ہیج یا حدبندی

حدبندی، ہیج یا ہیجنگ وہ سرمایہ ہے جو کہ انفرادی ایکسچینج میں بیک وقت دو طریقوں سے لاگو ہوتا ہے۔ سادہ لفظوں میں، اس کا مطلب ہے ایک ہی وقت میں کوئی مخصوص اثاثہ فروخت کرنا یا خریدنا ہے۔ حدبندی کا مقصد مستقبل میں اس اثاثے کی قیمت سے متعلق ضمانت فراہم کرنا ہے۔ یہ اثاثے سے متعلقہ ممکنہ نقصانات اور فوائد کے بارے میں قابل قبول ضمانت فراہم کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، ایک ایسے کاروباری فرد کا تصور کریں جو کہ کسی ملک سے چاکلیٹ پاؤڈر خریدنے کا حامی ہے اور سامان خرید کو اس تک پہنچنے کے عمل میں دو سے تین ماہ لگ سکتے ہیں۔ اس عرصہ کے دوران وہ مارکیٹ میں قیمتوں کے حوالے سے ڈرامائی تبدیلیاں دیکھ سکتا ہے۔ جو کہ مثبت یا منفی دونوں ہو سکتی ہیں۔ اس لیے، وہ اسی مقدار کا چاکلیٹ پاؤڈر ایک نیا اکاؤنٹ کھول کر بیک وقت فروخت بھی کرنا چاہتا ہے۔ اگر اس ترتیب سے، چاکلیٹ پاؤڈر کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے، تو اسی طرح اس کے خریدے گئے اثاثے کی قیمت میں اضافہ ہو گا اور اس کی پیچنے کی پوزیشن اسی حساب سے خراب ہو گی۔ بنیادی طور پر، وہ اس معاملے میں بے نقصان نقطے پر رہے گا۔ اور دوسری طرف، اگر چاکلیٹ پاؤڈر کی قیمت کم ہو جاتی ہے، تو اس کے خریداری کی پوزیشن منافع کی طرف جائے گی اور ان کا فرق ایک سا ہو گا اور وہ ایک بار پھر بے نقصان نقطے پر رہے گا۔ اسی طرح، تمام کاروباری افراد اپنے سرمائے کی حفاظت کی گارنٹی کا بندوبست کر سکتے ہیں۔ ایک اور طریقہ بھی موجود ہے، جسے آربیٹریج، یا غیر ملکی کرنسیوں کا تبادلہ، کہتے ہیں، جو کہ مستقبلیاتی تجارت کے حوالے سے معروف ہے، جس پر ہم کسی اگلی نشست میں بات کریں گے۔

کیری ٹریڈنگ

اگلا موضوع ہے کیری ٹریڈز، جن کا مقصد نہ صرف پوزیشن پر رہتے ہوئے منافع کمانا ہے، بلکہ شرح سود میں فرق کے حوالے سے بھی منافع کمانا ہے۔ مثلاً، اگر آپ اس تجارت کو مدنظر رکھیں جو ہم نے کی ہے، یعنی AUDUSD میں ایک کھیپ، تو اس میں 2 سے 3 دن میں 24- ڈالر ہوں گے اور اس کے سویپ نرخ 27 ڈالر ہوں گے جس کا مطلب یہ ہے کہ گو پوزیشن پر رہتے ہوئے نقصان ہو گا، تاہم سویپ مثبت ہو گا۔ جس وقت تک پوزیشن اوپن رہے گی، یہ مزید سویپ حاصل کرے گی۔ پس کیری ٹریڈز شروع سود کے فرق یا سویپ کے ذریعے منافع کمانے کا نام ہیں۔

Complementary Definitions in Financial Market - Hedging Trading Strategy in Fluctuating Forex Market Symbol

یہ سودابازی عام طور پر بلند شرح تبادلہ پر کی جاتی ہے۔ وہ فریقین جو اس سودے بازی میں دلچسپی رکھتے ہیں، ان کو دو مختلف بروکر درکار ہوتے ہیں؛ ایک سویپ سے پاک یا شرح سود سے پاک، اور دوسرا مع سویپ۔ جیسا کہ آپ دیکھ چکے، ہم ایک بار خرید چکے اور فروخت کر چکے ہیں اور ہمارے پاس 35-ڈالر منفی سویپ ہیں اور 27 ڈالر مثبت سویپ ہیں، تو اس صورت میں آپ کو منافع کمانے کے لیے سویپ کے ساتھ موجود بروکر سے معاملہ کرنا ہو گا ۔ مثبت اور منفی سویپ کے لیے آپ کو سویپ اور شرح سود سے پاک بروکر کے ساتھ معاملہ بندی کرنا ہو گا۔ ایک بروکر جو سویپ سے پاک معاملے کی پیش کش کرتا ہے وہ آئی سی ایم ICM (انٹرنیشنل کری ایٹو منیجمنٹ بروکر) کے نام سے معروف ہے۔

Complementary Definitions in Financial Market - Carry Trade and Exchange Rate - Metatrader 4

اگر آپ بھر بغور دیکھیں، پوزیشنوں کو کچھ دن کے لیے کھلا چھوڑا گیا ہے اور ان میں کوئی سویپ شامل نہیں ہیں۔

ایک کھیپ تجارت بحوالہ AUDUSD، جس کی سودابازی اس بروکر کے ساتھ ہوئی ہے، وہ کسی سویپ سے متعلقہ نہیں ہے۔ پس، ہم کسی اور بروکر جیسا کہ FXPRO سے خریداری کر سکتے ہیں تاکہ مثبت سویپس سے منافع کما سکیں، اور ان بروکرز کو فروخت کر سکیں جو سویپ نہیں رکھتے۔ اس طرح سے ہم نے "حدبندی" کی ہے، جس کا مطلب ہے ہم نے کچھ پایا ہے، نہ کھویا ہے، ہاں مگر اس وقت جب سویپ کی قیمت قابل ذکر حد تک بڑھ گئی ہو۔ کیری ٹریڈز کو مدنظر رکھتے ہوئے، وہ معروف مارکیٹیں جس میں فریقین عام طور پر دلچسپی ظاہر کرتے ہیں، وہ AUDJPY اور AUDUSD ہیں۔ جیسا کہ آپ کے علم میں آیا ہے، ایک بڑا رجحان یہ ہے کہ بلند شرح پر مبنی زرمبادلہ کو خریدا جائے، جو کہ سویپ پر منتج ہوتی ہیں۔ پس، سویپ اس عمل پر اثرانداز ہوتے ہیں، چونکہ تاجر خریداری میں دلچسپی لیتے ہیں تاکہ وہ منافع کما سکیں اور سویپ جمع کر سکیں، جس کا مطلب ہے فریقین عام طور پر ان سودابازیوں پر ابھی توجہ مرکوز کرتے ہیں جن میں وہ منافع کما سکیں اور ساتھ ہی ساتھ سویپ بھی حاصل کر سکیں۔ اگر آپ متعلق درست حکمت عملی اختیار کرنا چاہتے ہیں، تو آپ کو مارکیٹ میں افراط زر کے حوالے سے زبردست آگاہی ہونی چاہیے۔ اس کا مطلب ہے، زیادہ افراط زر ہو تو، آپ کو منافع کمانے اور سویپ پانے کے لیے خریداری کرنی چاہیے، اور جب آپ کو مارکیٹ ہموار لگے یا نچلے رخ کی طرف جاتی لگے تو آپ کا رجحان فروخت کی طرف ہونا چاہیے۔ مثلاً، AUDUSD سے متعلق FXPRO بروکر نے ہفتہ وار دورانیے کے لیے، جب مارکیٹ میں افراط زر کا رجحان زیادہ تھا، تو اس ایکسچینج کی قدر تیزی سے بڑھتی گئی۔ اس سے حاصل شدہ منافع اور سویپ کافی بہتر تھا، اور عام مارکیٹوں میں بے ترتیب سی روٹین تھی، تاہم سویپس کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ قابل برداشت عمل تھا۔ تاہم، جب مارکیٹ نیچے جاتے وقت اس کی قدر کسی حد تک تیزی سے گر کر پھر بلند ہو جائے گی۔ یہ اس کرنسی جوڑے کے حوالے سے اوپر کو جاتے ہوئے مارکیٹی رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔

Complementary Definitions in Financial Market - Positive and Negative Swap Interest Rate on a Currency

یوں یہ نشست اختتام پذیر ہوئی، جلد ہی ایک اور نشست کے ساتھ حاضر ہوں گے، اپنا خیال رکھیے گا۔

Comments

Copyright © 2011-2020 PFOREX.COM | Professional Forex School | Cashback and Rebates