Brokerage Revenues and Prime Functions - Over the Counter OTC

10۔ بروکریج خدمات اور خاص ذمہ داریاں

0 0 Vote
Instructor

10۔ بروکریج خدمات اور خاص ذمہ داریاں

فاریکس تربیتی پروگرام کی دسویں نشست

مالیاتی مارکیٹوں سے متعلقہ فاریکس کے پیشہ وارانہ تربیتی پروگرام میں پھر سے خوش آمدید

اس نشست میں ہم بروکریج سروس اور ان کی بنیادی ذمہ داریوں، بروکرز کی کٹوتی یا کمیشن، اور ہرجانے سے متعلق معاملات زیر بحث لائے جائیں گے۔

مخالفانہ سودے بازیاں

پہلی چیز جو کرنے کے لائق ہے، وہ سودے بازیوں کا تقابل ہے۔ اکثر تجارتی سرگرمیاں یا سودے بازیاں بڑی کرنسیوں میں ہوتی ہیں جیسا کہ GBPUSD، EURUSD اور USDJPY۔ دیگر کم مستعمل تجارتی کرنسیوں میں GBPJPY اور EURJPY شامل ہیں، اور سامان تجارت کے حوالے سے، سونے کی سب سے زیادہ تجارت کی جاتی ہے۔

یاد رہے 75-70٪ تک تجارتی سرگرمیاں EURUSD اور GBPUSD میں ہوتی ہیں، ایک بروکر ان کرنسیوں پر بہت زیادہ توجہ مرکوز رکھتا ہے اور ان کا متواتر جائزہ لیتا ہے اور ان کا تقابل کرتا ہے۔

جیسا کہ آپ جانتے ہیں، مارکیٹ سے وابستہ متحرک افراد ہمیشہ موجود رہتے ہیں؛ ان میں سے بعض قیمتوں میں اضافے کی توقع رکھتے ہیں، جب کہ دیگر، گراوٹ کی توقع رکھتے ہیں، یعنی ہر دم کئی ایسے افراد موجود ہوتے ہیں جو خرید یا فروخت کی تاک میں رہتے ہیں۔

اس کی مزید وضاحت اس مثال سے کرتے ہیں۔

فرض کرتے ہیں آپ نے سونے کی 1,000 کھیپوں کا آرڈر دیا ہے، اور اسی وقت، سونے کی 1,000 کھیپوں کی فروخت کا بھی آرڈر دیا ہے۔ ایسا کم ہی ہوتا ہے، تاہم ایک بروکر کو ایسے منظرنامے سے واسطہ پڑ سکتا ہے۔ اس مثال میں یہ تاثر ملتا ہے گویا کوئی ٹرانزیکشن واقع نہیں ہوئی ہے۔ بروکر کا کمیشن 100,000$ اور140,000$ کے درمیان ہو گا۔ یہ کمیشن گولڈ سپریڈ کے 2,000 گنا کی بنیاد پر طے ہوتا ہے؛ اس کیس میں 50$اور 70$ برابر ہیں 100,000$ یا 140,000$ کے، بالترتیب۔ سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ کمیشن بغیر کسی متحرک تجارتی سرگرمی کے مل جاتا ہے۔

Brokerage Revenues and Prime Functions - Brokers Services and Policies - Over The Counter OTC

یہ منظرنامہ ایکسچینج شاپز یا تبادلہ دکانوں کے ساتھ ممکن ہے۔ مثلاً، فرض کریں کسی ملک کی طرف $1 ملین ڈالرز منتقل کیے جا رہے ہوں جو کہ $1 ملین ڈالر منتقل کر رہا ہو۔ دونوں رقوم کی مماثلت کی وجہ سے درحقیقت کوئی بھی سرگرمی واقع نہ ہو گی۔ ایکچینج شاپز ملک کے اندر سرمائے کو آف سیٹ کرتی ہیں، اور بروکرز کو کمیشن ادا کیا جاتا ہے۔ اگر ان کو ہر 1$ پر 0.01$کمیشن دینا پڑے تو ان کا کمیشن 10,000$ بن جائے گا۔

اوور لیپنگ

اب ہم اگلے مرحلے میں اوورلیپنگ پر بات کریں گے۔ بروکرز کے ایک دوسرے کے ساتھ پیشگی معاملات طے ہوتے ہیں اور اسی بنیاد پر وہ صارفین کے اکاؤنٹس کو چلاتے ہیں۔

مثلاً، فرض کریں ہمیں 10,000 کھیپیں خریدنی ہیں اور 11,000 کھیپیں فروخت کرنی ہیں؛ تو یوں 1,000 کھیپوں کا فرق ہو گا۔ اس صورتحال میں بروکر اوورلیپنگ کرتے ہیں۔ وہ بنیادی طور پر اپنے اکاؤنٹس اوورلیپ کرتے ہیں اور دوسرے بروکروں کے ساتھ تجارتی سودابازی کرتے ہیں، اور پہلے سے طے کردہ معاملات کے پیش نظر، اپنے درمیان منافع کو تقسیم کر لیتے ہیں۔

اب ہم او ٹی سی OTC قانون کے علاوہ اوور دی کاؤنٹر Over the Counter قانون پر توجہ مرکوز کریں گے۔

عالمی سطح پر قیمتوں کے حوالے سے رسک منیجمنٹ استعمال کرتے ہوئے، بروکرز اپنے صارفین سے براہ راست معاملات طے کر سکتے ہیں، تاہم، اس کا انحصار مختلف باتوں پر ہے:

صارفین کا ملک کس خطے سے ہے

انہوں نے کس ملک میں اکاؤنٹ کھولا ہے

ان کا ٹرن اوور اور ٹرانزیکشن ویلیو

کن کرنسیوں میں وہ تجارت کرتے ہیں اور ان کی لچک

ان کا منافع اور خسارہ

اور آخر میں، ان کا ابتدائی سرمایہ

سودے بازیوں کی تعداد اور ان کی تجارتی قدر و قیمت کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔

مثلاً، بروکریج ماہرین کی ایک ٹیم اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ آج، سونے کی قیمت 1,300 سے زیادہ ہو کر 1,305 ہو جائے گی۔ اس پیشگوئی کی بنیاد پر بروکر سونے کو براہ راست صارفین کو بیچنے کا منصوبہ بناتا ہے بجائے اس کے، کہ اپنے آرڈرز کو بنکوں کے مابین گردش دی جائے، پس سونے کی قیمت مطلوبہ ہدف تک پہنچنے پر بروکر بھاری منافع کماتا ہے۔

Brokerage Revenues and Prime Functions - Risk and Capital Management - Over the Counter OTC

جب ایکسچینجرز یہ سمجھتے ہیں کہ کرنسی کی قیمت گرے گی، تو وہ موجودہ قیمت پر کرنسی کو فروخت کر دیتے ہیں حتٰی کہ ان کے پاس اس کرنسی کے مقابل رقم موجود نہ ہو۔ ایک خاص وقت گزرنے کے بعد، جب وہ فروخت کردہ کرنسی فراہم کرتے ہیں، تو وہ کم قیمت پر وہ کرنسی خرید لیتے ہیں اور خریدنے والے کو نقد رقم فراہم کر دیتے ہیں۔ مثلاً، ایک ایکسچینجر یہ پیشگوئی کرتا ہے کہ ترکش لیرا (TRY) امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں سستا ہو جائے گا۔ اب اسے ایک پارٹی ملتی ہے جو 1 ملین ترکش لیرا لینا چاہتی ہے، پس وہ یہ رقم فروخت کر دیتا ہے۔

اس حقیقت کے باوجود کہ ایکسچینجر خریدار کو مطلوبہ رقم فروخت کر دیتا ہے، تاہم اس کے پاس یہ رقم موجود نہیں ہوتی اور وہ بقیہ رقم نہیں خریدتا یہاں تک کہ وہ وقت آ جائے جب اسے نقد رقم فراہم کرنا پڑ جائے۔ یہ فرض کرتے ہوئے کہ رقم کی فراہمی کا وقت آرڈر کے وقت سے 1 دن بعد ہے، تو اس دوران ترکش لیرا کی قیمت قابل ذکر حد تک گر سکتی ہے۔ ایکسچینجر عین ڈیلیوری کے وقت کم نرخ پر بقیہ رقم خرید لے گا۔ تاہم آرڈر کے وقت اور ڈیلیوری کے وقت کے درمیانی عرصے میں ہونے والی تاخیر کے باعث ایکسچینجر بھاری منافع کمائے گا۔

سپریڈ میں اضافہ

اب ہم سپریڈ میں اضافے کے متعلق جانیں گے۔

جب مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا عمل جاری ہو، ایک بروکر سپریڈ کو عام طور پر بڑھا دیتا ہے تاکہ مزید صارفین اور تاجر اس ایک گروہ میں شامل ہوں، جنہوں نے سپریڈ کے بڑھنے پر اپنے آرڈر دیے ہوں۔

مثلاً، اگر سونے کی خرید اور فروخت پر سپریڈ 5 یا 7 pip سے بڑھ کر 12 pip ہو جائے، تو ایک بروکر تمام صارفین کو 24 pip کے چینل میں رکھ دیتا ہے جو کہ 2.4$کے برابر ہوتا ہے اور بروکر ہر پارٹی سے اس کی گروپ میں شمولیت کی قیمت کی بنیاد پر بھاری منافع کما سکتا ہے۔

اثاثوں اور ایس ٹی پی اکاؤنٹس کی سودے بازی پر کمیشن

اگلا موضوع کمیشن ہے، جس پر ہم پہلے مختصر بحث کر چکے ہیں۔ پچھلی نشست میں، ایس ٹی پی اور این ڈی ڈی اکاؤنٹس کی ذیل میں، ہم نے یہ واضح کیا تھا کہ ایک بروکر کس طرح آمدن پر کمیشن حاصل کرتا ہے۔

Brokerage Revenues and Prime Functions - Negative Offset and Swap Commission - Spread Overlapping and Opposing

بروکر سویپ کمیشن

تاہم، بروکرز مثبت اور منفی سویپس سے کمیشن حاصل کر سکتے ہیں، جسے بروکرز سویپ کمیشن کہا جاتا ہے۔

بروکرز کی کوشش ہوتی ہے کہ بنکوں اور بڑے بروکرز کے ساتھ بڑے اکاؤنٹس کھولے جائیں، اور جب وہ او ٹی سی قانون پر عمل درآمد نہیں کرتے یا اگر تجارتی آرڈرز کی رقم اوورلیپنگ کی صلاحیت سے بڑھ جائے، تو پھر وہ اپنی سودے بازیوں کو طاقت ور بروکرز یا بنکوں میں موجود اپنے اکاؤنٹ مں آف سیٹ کر دیتے ہیں۔ اس طرح وہ بہرصوررت اپنی تجارت کے ذریعے منافع کما لیتے ہیں۔

مثلاً، ایک روایتی بروکر کے ذریعے ہونے والی EURUSD سودے بازیوں میں، اگر پیشکش 2 pip کی ہو گی، جب کہ بنک اس بروکر کو 0.3 pip سپریڈ فراہم کرتا ہے، اس کے بڑے اکاؤنٹ بیلنس کی وجہ سے، تو بروکر کے پاس1.7 pip منافع باقی رہ جائے گا۔

اب ہم منفی آف سیٹ سویپ سے متعلق بات کریں گے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، سویپ فری اکاؤنٹس، سویپ سے متعلق کوئی معاوضہ وصول نہیں کرتے، اور منفی سویپ کے حامل بروکرز سویپ فری اکاؤنٹ میں اپنا کھاتہ کھولنا چاہتے ہیں، اور کُل رقم اور آرڈرز کو ان اکاؤنٹس میں منتقل کرنا چاہتے ہیں۔

Brokerage Revenues and Prime Functions - Swap Commission and Negative Offset - Broker Spread

اس طرح انہیں کوئی سویپ ادا نہیں کرنا پڑتا تاہم وہ منفی سویپس اور کمیشن کے لیے ہر شب کو تاجروں سے معاوضہ کی وصولی کا عمل جاری رکھ سکتے ہیں

اس نشست میں، ہم نے بروکرز کے ہر قسم کے کمیشن کے حوالے سے جملہ امور کی وضاحت کی ہے۔ درج بالا معلومات بروکرویج کی اندرونی پالیسی سے متعلقہ ہیں۔

اس کا کوئی تعلق اکاؤنٹ کی قسم جیسے فلوٹننگ سپریڈ، فکسڈ سپریڈ، ایس ٹی پی، پی سی این یا این ڈی ڈی کے ساتھ نہیں ہے اور تمام بروکرز اس امر کے پابند ہیں کہ وہ کسی بھی وقت کسی بھی سودے بازی سے متعلق کسی بھی فریق کو کسی بھی حد تک کا منافع ادا کریں۔

اس کے ساتھ یہ نشست اختتام پذیر ہوئی، اگلی نشست میں پھر ملیں گے، اپنا خیال رکھیے گا۔

Comments

Copyright © 2011-2020 PFOREX.COM | Professional Forex School | Cashback and Rebates